بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ یہ تحریر ان دنوں کی روداد ہے جب بورس یلتسین کے وزیر خارجہ آندرے کوزیریف (Andrei Kozyrev) نے قومی مفادات کو واشنگٹن کی مسکراہٹ پر قربان کر دیا، نیٹو نے تمام تحریری اور زبانی وعدوں کے برعکس مشرق کی طرف چھلانگ لگائی، سرخ فوج کے ٹینک گروزنی کی گلیوں میں مغرب کے مہمل پیروکاروں کے ہاتھوں راکھ کا ڈھیر بن گئے، اور ماسکو کے نم زدہ اور مرطوب تہہ خانوں میں ایک مکتبِۂ فکر نے انگڑائی لی جس نے قسم کھائی کہ اس 'مغرب کی طرف کے، پشت میں لگے خنجر' کا بدلہ مغربی تہذیب سے ضرور لے گا۔
حصۂ سوئم:
مکتبِ کوزیریف اور "اٹلانٹسزم (Atlanticism)" کا وہم؛
قومی مفادات کو مغرب کے قہقہوں کے بھینٹ چڑھانامیں تحلیل
اس تاریخی تحقیر و تذلیل کے ساتھ روسی سفارت خانے کے نظام میں ایک ایسا رجحان قائم ہؤا جسے بعد میں ماسکو کی سیاسی اصطلاحات میں "کوزیریفزم کی غداری" کہا گیا۔ آندرے کوزیریف، سوویت یونین کے بعد روس کا پہلے وزیر خارجہ، تہذیبی احساس کمتری (Civilizational inferiority complex) کی واضح علامت اور اسی "تہذیبی غلامانہ ذہنیت" (Civilizational slave mindset) کی مکمل تصویر تھا جس سے (روسی سوویت وفاقی اشتراکی جمہوریہ کی سپریم سوویت کے سابق چیئرمین) آندرے ژدانوف (Andrei Zhdanov) نے کئی دہائیاں پہلے، خبردار کیا تھا۔ کوزیریف اور یلتسین کی نو لبرل ٹیم کا خیال تھا کہ روس کو "مغربی مہذب اقوام کے کلب میں قبول" کرانے کے لئے اپنے تمام روایتی دعوے، عزائم اور تاریخی مفادات کو بھولنا چاہئے!
ایک مشہور اور تاریخی طور پر ہلا دینے والی گفتگو میں، جب امریکہ کے سابق صدر رچرڈ نکسن نے ماسکو میں کوزیریف سے پوچھا: 'دنیا میں نئے روس کے قومی مفادات کیا ہیں؟' تو کوزیریف نے ایسا جواب دیا جو خود حقیقت پسند نکسن کو بھی حیران کر گیا:
"نئے روس کے کوئی آزادانہ اور خودمختارانہ قومی مفادات نہیں ہیں! ہمارے مفادات بالکل وہی مشترکہ انسانی اور مغربی اقدار ہیں؛ اگر امریکہ کے پاس ہمارے لئے کوئی مشورہ ہے تو ہم اسے سننے اور اس پر عمل کرنے کے لئے بے چین ہیں!"
نکسن کا تاثر بعد میں اس کی یادداشتوں میں شائع ہؤا: "جب میں نے یہ الفاظ سنے تو میں سمجھ گیا کہ یہ ملک ایسے رہنماؤں کے ساتھ ذلیل ہوجائے گا۔"
کوزیریف نے ماسکو کی خارجہ پالیسی کو وائٹ ہاؤس کی 100٪ پیروی تک محدود کر دیا۔ روس کے اسٹراٹیجک ہتھیار واشنگٹن کے ساتھ یکطرفہ معاہدوں کے تحت ضائع کئے گئے، کیوبا اور ویتنام میں روسی فوجی اڈے بغیر کسی معاوضے کے خالی کئے گئے، اور بلقان اور مشرقِ وسطیٰ میں ماسکو کے تاریخی اتحادی یکے بعد دیگرے امریکی دباؤ کے سامنے جھک گئے۔ عوام اور فوجی افسروں کی نظر میں حکمران نظام اب قوم کا نمائندہ نہیں تھا، بلکہ کریملن میں واشنگٹن کے مفادات کا کارندہ تھا۔
نیٹو کے فریب کا خنجر؛ جیمز بیکر کی عہد شکنی اور روس کے محاصرے کا آغاز
ماسکو کے سفارت کاروں کی ذلت آمیز انفعالیت (اور بے عملی) کے ساتھ ساتھ، بیسویں صدی کا سب سے بڑا اسٹراٹیجک دھوکہ ہؤا: نیٹو کی مشرق کی طرف توسیع۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تحریر: مہدی سیف تبریزی
ترجمہ: ابو فروہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ